Saturday, 14 August 2021

ابھی دکھی ہوں بہت اور بہت اداس ہوں میں

 ابھی دُکھی ہوں بہت اور بہت اُداس ہوں میں

ہنسوں تو کیسے کہ تصویر درد و یاس ہوں میں

قریب رہ کے بھی تو مجھ سے دُور دُور رہا

یہ اور بات کہ برسوں سے تیرے پاس ہوں میں

جو تیرگی میں دِیا بن کے روشنی بخشے

اس اعتماد کی ہلکی سی ایک آس ہوں میں

خود اپنے ہاتھ سے سِیتا ہوں اور پہنتا ہوں

اس عہد نو کا وہ بکھرا ہوا لباس ہوں میں

کمال مجھ کو نئی نسل یاد رکھے گی

کتاب زیست کا اک ایسا اقتباس ہوں میں


کمال جعفری

No comments:

Post a Comment