Friday, 13 August 2021

تو جہاں میں چار دن مہمان ہے

 تُو جہاں میں چار دن مہمان ہے

اس کے آگے اور ہی سامان ہے

آدمی اک خاک کا پُتلا ہے بس

جسم میں رنگت ہے جب تک جان ہے

کالا، گورا، اونچا‌، نیچا جو بھی ہو

آدمی وہ ہے کہ جو انسان ہے

گر جہنم کی حقیقت جان لو

راہ جنت کی بہت آسان ہے

کچھ تِرے اعمال ہی اچھے نہ تھے

اپنی بربادی پہ کیوں حیران ہے

کچھ نہیں سارے جہاں کی دولتیں

آدمی کے دل میں گر ایمان ہے


فرحت علی

No comments:

Post a Comment