دے گئی لذت میری تنہائی کی عادت مجھے
اب شکایت ہے کسی سے اور نہ ہے وحشت مجھے
کھوج میں اپنی نکلنے کا سفر اچھا لگا
لمحہ لمحہ خود کو پانے میں ملی راحت مجھے
میری اپنی زندگی ہے داستاں در داستاں
قصے اوروں کے پڑھوں میں اب کہاں فُرصت مجھے
خود پرستی خود ستائی مجھ کو دنیا سے ملی
جابجا ڈھونڈے گی میرے نام سے شہرت مجھے
فوزیہ اس دل میں پنہاں ہیں تلاطم خیزیاں
مار نہ ڈالے کہیں جذبات کی شدت مجھے
فوزیہ مغل
No comments:
Post a Comment