Thursday, 22 April 2021

دے گئی لذت میری تنہائی کی عادت مجھے

 دے گئی لذت میری تنہائی کی عادت مجھے

اب شکایت ہے کسی سے اور نہ ہے وحشت مجھے

کھوج میں اپنی نکلنے کا سفر اچھا لگا

لمحہ لمحہ خود کو پانے میں ملی راحت مجھے

میری اپنی زندگی ہے داستاں در داستاں

قصے اوروں کے پڑھوں میں اب کہاں فُرصت مجھے

خود پرستی خود ستائی مجھ کو دنیا سے ملی

جابجا ڈھونڈے گی میرے نام سے شہرت مجھے

فوزیہ اس دل میں پنہاں ہیں تلاطم خیزیاں

مار نہ ڈالے کہیں جذبات کی شدت مجھے


فوزیہ مغل

No comments:

Post a Comment