Thursday, 22 April 2021

چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی

 چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی

روشنی کی کمی کو سمجھوں گی

ایک پتھر سے دوستی کر کے

آپ کی بے رخی کو سمجھوں گی

میں چراغوں کو طاق پر رکھ کر

حاصل زندگی کو سمجھوں گی

اس بدن کا طلسم ٹوٹے تو

پھول کی تازگی کو سمجھوں گی

لوگ کہتے ہیں جب مجھے بے حس

میں بھلا کیوں کسی کو سمجھوں گی

فون پر بات ہو گی فرصت سے

اور اک اجنبی کو سمجھوں گی

مجھ سے امید مت لگاؤ تم

میں نہیں جو سبھی کو سمجھوں گی

جا کے دریا کنارے بیٹھوں گی

شور میں خامشی کو سمجھوں گی

میں سہولت پسند ہوں زہرا

آپسی دشمنی کو سمجھوں گی


زہرا قرار

زہرہ قرار

No comments:

Post a Comment