ان پانیوں میں خوب نہانے کو جی کرے
سارے دُکھوں کا بوجھ بھُلانے کو جی کرے
انجان سی صدائیں جو آتی ہیں دُور سے
دیوانگی کے دشت میں جانے کو جی کرے
ان پربتوں کی چھاؤں میں سوئے سکوت کو
کر کے بلند چیخ ڈرانے کو جی کرے
بُجھنے لگی ہے شام اندھیروں کی گود میں
ہر سمت ایک آگ لگانے کو جی کرے
وہ شخص جس سے رُوٹھ کے تنہا بہت ہوئے
اس کی گلی کی خاک اُڑانے کو جی کرے
فکری یہ اختصار تو بے لطف سا رہا
قصہ کوئی طویل سُنانے کو جی کرے
پرکاش فکری
No comments:
Post a Comment