عارفانہ کلام منقبت سلام
ہست میں پھیلا اجالا یک بہ یک کم ہو گیا
آج کیا تاریخ گزری، کیا محرّم ہو گیا؟
شاعری منبر پہ پہنچی اور کہا؛ کرب و بلا
درہم و برہم ہوئی صف، اور ماتم ہو گیا
مر گئے اے سوز خوانو مرثیہ پڑھ کر چراغ
فرش سے اٹھتا اندھیرا عرش میں ضم ہو گیا
تھی کہاں چشمِ فلک کو ایک نظارے کی تاب
روشنی کا سر کُھلا تو چاند مدہم ہو گیا
داد کی ٹھنڈی ہوا سے، میں دعا سے سبز ہوں
آنکھ روشنی ہو رہی ہے، اشک مرہم ہو گیا
ایک پیشانی چمک کر خاک روشن کر گئی
ایک سجدے سے کوئی صحرا مکرّم ہو گیا
عصر کا نوحہ سنو گے، ہاں قیامت آ گئی
خون میں غلطاں ہمارا سبز پرچم ہو گیا
احمد جہانگیر
No comments:
Post a Comment