کبھی پیالے میں جھانکتی ہے، کبھی صحیفے کھنگالتی ہے
یہیں سرائے میں ایک بُڑھیا، سعید فالیں نکالتی ہے
غلام گردش کا یہ تعفّن، جناب چربی کی مشعلوں سے
اذانِ مغرب سے جُھٹ پٹے تک یہی نحوست اجالتی ہے
کسی نے پتّھر کا ہل بنا کر فلک پہ اپنی نگاہ ڈالی
درخت نذریں گزارتے ہیں، فَضا ستارے اچھالتی ہے
زمین، پگھلی ہوئی حرارت کا ایک اندھا کنواں چھپائے
کرخت سینے سے زندگی کے ہزار سَوتے نکالتی ہے
رسولؐ زادے! سپاہیوں کی ہر ایک چوکی کا دھیان رکھنا
امام باڑے میں ایک دُکھیا نیاز بکسے میں ڈالتی ہے
روانگی کے مجادلے میں، اٹھاؤ خیمے، کا شور اُٹھا
مگر مصوّر کی چشم حیرت فقط مناظر سنبھالتی ہے
بتاو مکّے کو جا رہے ہو، مِرے لیے بھی دعا کرو گے
دعا جو رسی کی گانٹھ کھولے، دعا جو مشکل کو ٹالتی ہے
کہیں سے ایندھن کا رزق اترا، کبھی توازن کا حکم پایا
تِری مشیّت، مِرا ستارہ، کمال رحمت سے پالتی ہے
احمد جہانگیر
No comments:
Post a Comment