Saturday, 5 March 2022

میں تیرے سنگ ابھی اور چل نہِیں سکتا

 میں تیرے سنگ ابھی اور چل نہِیں سکتا

لکھا گیا جو مقدر میں ٹل نہِیں سکتا

ہر ایک گام پہ کانٹوں کا سامنا تو ہے

چُنا جو راستہ، رستہ بدل نہِیں سکتا

میں بھوک جھیل کے فاقوں سے مر تو سکتا ہوں

ملیں جو بِھیک میں ٹکڑوں پہ پل نہِیں سکتا

قسم جو کھائی تو مر کر بھی لاج رکھ لوں گا

کہ راز دوست کا اپنے اُگل نہِیں سکتا

بھلے ہو جِسم پہ پوشاک خستہ حال مگر

لباس تن پہ محبت کا گل نہِیں سکتا 

زمیں پہ فصل سروں کی اگانے چل تو دئیے

مگر یہ پودا کبھی پھول پھل نہِیں سکتا 

رکھی خدا نے کوئی سِل سی میرے سِینے میں

سو اس میں پیار کا جذبہ مچل نہِیں سکتا

وہ اور لوگ تھے روشن ہیں تُربتیں جِن کی

دِیا مزار پہ میرے تو جل نہِیں سکتا

رشید صدمے کئی ہنس کے جھیل سکتا ہوں

کسی کلی کا مگر دل مسل نہِیں سکتا


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment