یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہے
اندھیری رات ہے پھر بھی بہت اجالا ہے
وفا فریب ہے اعجاز عشق دھوکا ہے
بنا غرض کے یہاں کون کس سے ملتا ہے
غموں نے چہرہ کچھ اتنا بگاڑ رکھا ہے
کہ آئینہ ⌗ ہو مقابل تو خوف آتا ہے
بدن ہے شاخ کی مانند گل سا چہرہ ہے
ہماری جاگتی آنکھوں نے کس کو دیکھا ہے
غرض پرست محبت کی بات کرنے لگے
نہ جانے آج کا سورج کدھر سے نکلا ہے
کبھی ستم بھی تِرا پُر کشش نظر آیا
کبھی کرم بھی تِرا ناگوار گزرا ہے
کتاب دل پہ ذرا غور سے نظر ڈالو
ورق ورق پہ تمہارا ہی نام لکھا ہے
یہ کس کی لاش پڑی ہے سڑک پہ لا وارث
یہ کس کا نام لکھا ہے یہ کس کا بستہ ہے
ہے نوکِ نیزہ پہ بھی فتح کی ادا اعجاز
ہمارا سر ابھی قاتل کے سر سے اونچا ہے
اعجاز انصاری
No comments:
Post a Comment