Saturday, 5 March 2022

یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہے

 یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہے

اندھیری رات ہے پھر بھی بہت اجالا ہے

وفا فریب ہے اعجاز عشق دھوکا ہے

بنا غرض کے یہاں کون کس سے ملتا ہے

غموں نے چہرہ کچھ اتنا بگاڑ رکھا ہے

کہ آئینہ ⌗ ہو مقابل تو خوف آتا ہے

بدن ہے شاخ کی مانند گل سا چہرہ ہے

ہماری جاگتی آنکھوں نے کس کو دیکھا ہے

غرض پرست محبت کی بات کرنے لگے

نہ جانے آج کا سورج کدھر سے نکلا ہے

کبھی ستم بھی تِرا پُر کشش نظر آیا

کبھی کرم بھی تِرا ناگوار گزرا ہے

کتاب دل پہ ذرا غور سے نظر ڈالو

ورق ورق پہ تمہارا ہی نام لکھا ہے

یہ کس کی لاش پڑی ہے سڑک پہ لا وارث

یہ کس کا نام لکھا ہے یہ کس کا بستہ ہے

ہے نوکِ نیزہ پہ بھی فتح کی ادا اعجاز

ہمارا سر ابھی قاتل کے سر سے اونچا ہے


اعجاز انصاری

No comments:

Post a Comment