Saturday, 5 March 2022

روش روش پہ پھول کھلاتے گلزاروں کی بات کریں

 روش روش پہ پھول کھلاتے گلزاروں کی بات کریں 

چھوڑ گئے جو تنہا ہم کو، ان پیاروں کی بات کریں 

سرد روی کے جھونکے تن کو چھید رہے ہیں مدت سے

آؤ ناں مل کر دروازوں سے، دیواروں کی بات کریں 

خاک نشینی ٹھیک ہے، لیکن کبھی کبھی دل کرتا ہے 

دور فضا میں اڑتے جائیں، کہساروں کی بات کریں 

اس دن سوچ حنائی ہو گی، اس دن رادھا ناچے گی 

بے چارے جب مل کر سارے بیچاروں کی بات کریں 

سورج جا کر چھپ جاتا ہے دھن والوں کی جھولی میں 

آؤ ناں مل کر جگنو بانٹیں، اندھیاروں کی بات کریں

دیکھ ثمینہ سید!! کیسے وقت نے کروٹ بدلی ہے 

سر کی باتیں کرنے والے دستاروں کی بات کریں


ثمینہ سید 

No comments:

Post a Comment