Wednesday, 2 June 2021

زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے

زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے

زمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتے

کوئی جو تھوڑا لحاظ کرتا

کسی پہ اتنے ستم نہ ہوتے

ہمارا چہرہ بھی کھل کھلاتا

جو دل میں رنج و الم نہ ہوتے

کسی بھی رستے پہ چل نکلتے

مگر یوں سوئے عدم نہ ہوتے

ذرا جو خود پر دھیان دیتے

ہمارے عشاق بھی کم نہ ہوتے

کہا کسی کا جو مان لیتے

حیا سے گردن میں خم نہ ہوتے

کہیں بھی ہوتے بنا ہم ان کے

یہاں خدا کی قسم نہ ہوتے

ہزار باتوں کا ہے خلاصہ

جو وہ نہ ہوتے تو ہم نہ ہوتے


احسان سبز

No comments:

Post a Comment