زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے
زمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتے
کوئی جو تھوڑا لحاظ کرتا
کسی پہ اتنے ستم نہ ہوتے
ہمارا چہرہ بھی کھل کھلاتا
جو دل میں رنج و الم نہ ہوتے
کسی بھی رستے پہ چل نکلتے
مگر یوں سوئے عدم نہ ہوتے
ذرا جو خود پر دھیان دیتے
ہمارے عشاق بھی کم نہ ہوتے
کہا کسی کا جو مان لیتے
حیا سے گردن میں خم نہ ہوتے
کہیں بھی ہوتے بنا ہم ان کے
یہاں خدا کی قسم نہ ہوتے
ہزار باتوں کا ہے خلاصہ
جو وہ نہ ہوتے تو ہم نہ ہوتے
احسان سبز
No comments:
Post a Comment