مِلا جنوں کو جو پیغامِ خار پیمائی
دہانِ دشت سے آواز 'الااماں' آئی
عدم سے جوششِ وحشت میں تا وجود آئی
کہاں سے کھینچ کے مجھ کو قضا کہاں لائی
نقب لگا کے مِری آہ ان کی پلکوں میں
نگاہِ ناز سے کچھ بجلیاں چُرا لائی
یہاں تو گوشۂ دل ہی میں جانے کیا دیکھا
کلیمؑ طُور پہ کرتے ہیں خار پیمائی
جمالِ زار کی جانب نگاہ کیوں اُٹھے
نظر کو ان کی ہے اندیشۂ مسِیحائی
بلقیس جمال بریلوی
No comments:
Post a Comment