مجھ کو احساس دلانے کی ضرورت کیا ہے
میں سمجھتا ہوں زمانے کی ضرورت کیا ہے
میں نہ کہتا تھا مجھے چھوڑ کے پچھتاؤ گے
اب مِرا سوگ منانے کی ضرورت کیا کے
خواب آنکھوں میں سجانے کی ضرورت کیا تھی
اب تجھے اشک بہانے کی ضرورت کیا ہے
ہر ضرورت کا ضروری نہیں پورا ہونا
جان داؤ پہ لگانے کی ضرورت کیا ہے
کیا ضرورت ہے مِری جان بتا دے مجھ کو
مجھ تلک ہے تو چھپانے کی ضرورت کیا ہے
تیرے اپنوں کو تو اپنی ہی پڑی ہے عادل
کون جانے کہ دِوانے کی ضرورت کیا ہے
نوشیروان عادل
No comments:
Post a Comment