Friday, 13 August 2021

جیسے لوگ ہوں ان میں ویسی بن کر جاتی ہوں

 جیسے لوگ ہوں ان میں ویسی بن کر جاتی ہوں

کہیں دوپٹہ کہیں میں اوڑھ کے چادر جاتی ہوں

ممنوعہ رستوں پہ جانا اچھا لگتا ہے

جن پر ون وے لکھا ہو میں اکثر جاتی ہوں

جھگڑے کے ڈر سےاب اکثر چُپ رہتی ہوں میں

لیکن اس کے جُھوٹ پہ اندر سے مر جاتی ہوں

بے منزل راہوں سے اب ہم بہتر ہے ہٹ جائیں

تم بھی واپس لوٹو اور میں بھی گھر جاتی ہوں

باہر جاتے چابی کھو جانے کے ڈر سے میں

کھول کے گھر کا لازمی کوئی اک در جاتی ہوں

اپنے دیس میں جاؤں تو یہ لگتا ہے مجھ کو

جیسے میں اک بند کمرے سے باہر جاتی ہوں

دُور اُفق پر سُورج کا وہ ڈھلنا دِھیرے سے

دیکھنے اکثر شام کا میں وہ منظر جاتی ہوں


شازیہ نورین

No comments:

Post a Comment