اس سے آتی ہے تیری باس ابھی
میں نے بدلا نہیں لباس ابھی
خود کو ترتیب دے رہا ہوں میں
اس کو لاؤ نہ میرے پاس ابھی
اس تجلّی کا پوچھتے ہو کیا
گُم ہیں ٹھہرو مِرے حواس ابھی
ہونٹ دریا نے سی لیے تو کیا
گونج اُٹھے گی میری پیاس ابھی
تم تو کب کے بچھڑ گئے، لیکن
مجھ سے لپٹی ہے تیری باس ابھی
نعمان فاروق
No comments:
Post a Comment