Friday, 13 August 2021

اس سے آتی ہے تیری باس ابھی

اس سے آتی ہے تیری باس ابھی

میں نے بدلا نہیں لباس ابھی

خود کو ترتیب دے رہا ہوں میں

اس کو لاؤ نہ میرے پاس ابھی

اس تجلّی کا پوچھتے ہو کیا

گُم ہیں ٹھہرو مِرے حواس ابھی

ہونٹ دریا نے سی لیے تو کیا

گونج اُٹھے گی میری پیاس ابھی

تم تو کب کے بچھڑ گئے، لیکن

مجھ سے لپٹی ہے تیری باس ابھی


نعمان فاروق

No comments:

Post a Comment