گھر کا عدو تھا سازشِ ایمان کر گیا
بھائی بھی میرے شہر کو کنعان کر گیا
اِک قافلہ بہشت کو نکلا تھا، کیا ہُوا؟
اِک خُوبرُو تھا راہ کو سُنسان کر گیا
رختِ سفر کا بوجھ پرندے کو کھا گیا
بارِ وفا شباب کو بے جان کر گیا
تیرا وہ بار بار مجھے چائے پُوچھنا
تیرے اسیرِ دل کو بھی مہمان کر گیا
کوئل خِزاں کی رُت سے کبھو آشنا نہ تھی
خوفِ شکار دشت کو ویران کر گیا
رمزِ بقائے ذیست سے دل مُشتعل تھا پھر
اپنوں کا تیر بات کو آسان کر گیا
میرے سالِ عشق پہ اُس کا نہیں شہاب
اِس زندگی کو جون کا دیوان کر گیا
خواجہ شہاب الدین
No comments:
Post a Comment