Friday, 13 August 2021

پھیلتا جاتا ہے نفرت کا دھواں عشق کرو

 پھیلتا جاتا ہے نفرت کا دھواں عشق کرو

بجھ نہ جائے کہیں یہ شعلۂ جاں عشق کرو

عشق بن جینے کے آداب نہیں آتے ہیں

میر صاحب نے کہا ہے کہ میاں عشق کرو

کج ادائی نہ فقیروں کو دکھاؤ یارو

ایک شب کے لیے مہماں ہیں یہاں عشق کرو

کل نہ ہم ہوں گے نہ تم ہو گے نہ یہ ہنگامے

کوئی دن اور ہے یہ رنگ جہاں عشق کرو

عشق کے سودے میں نقصان بہت ہے والی

پر کبھی بند نہ ہو دل کی دکاں، عشق کرو


والی آسی

No comments:

Post a Comment