Friday, 13 August 2021

نہ کوئی حرف نہ آنسو صدا کے ساتھ ہوا

 نہ کوئی حرف نہ آنسو صدا کے ساتھ ہوا

میرا یقین روانہ دعا کے ساتھ ہوا

کھڑے ہوئے تھے محافظ خدا کے پہرے پر

وہ جانتے تھے جو پہلے خدا کے ساتھ ہوا

چراغ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا پوچھ اسے

وہ سانحہ کہ جو کل شب ہوا کے ساتھ ہوا

ہمیں خبر ہے یہ وسعت ہے صفر کا حاصل

ہمیں خبر ہے جو ارض و سما کے ساتھ ہوا

مجھے یہ ڈر ہے اسے بھر نہیں سکوں گا میں

خلا کہیں بھی اگر انخلاء کے ساتھ ہوا


آصف رشید اسجد

No comments:

Post a Comment