نہ کوئی حرف نہ آنسو صدا کے ساتھ ہوا
میرا یقین روانہ دعا کے ساتھ ہوا
کھڑے ہوئے تھے محافظ خدا کے پہرے پر
وہ جانتے تھے جو پہلے خدا کے ساتھ ہوا
چراغ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا پوچھ اسے
وہ سانحہ کہ جو کل شب ہوا کے ساتھ ہوا
ہمیں خبر ہے یہ وسعت ہے صفر کا حاصل
ہمیں خبر ہے جو ارض و سما کے ساتھ ہوا
مجھے یہ ڈر ہے اسے بھر نہیں سکوں گا میں
خلا کہیں بھی اگر انخلاء کے ساتھ ہوا
آصف رشید اسجد
No comments:
Post a Comment