Friday, 13 August 2021

محسن ہے کوئی ایک تو غدار بہت ہیں

 پیوستہ اپنی ذات میں آزار بہت ہیں

محسن ہے کوئی ایک تو غدار بہت ہیں

دریا بھی زادِ راہ میں لے جانا چاہیۓ

راہِ وفا و عشق میں انگار بہت ہیں

واعظ! نہ تیری بات میں شوخی نہ حرارت

بے ذوق سے الفاظ کے طومار بہت ہیں

شوریدہ سر کسی کی محبت میں کیا ہوئے

اب تو خود اپنے آپ سے بے زار بہت ہیں

قاصد سے پوچھا؛ کیا تھا جوابِ عرض؟ کہا

"اقرار نہیں کوئی بھی، انکار بہت ہیں"

دائم دروغ گوئی بھی تیری ہے کیا کمال 

تم جھوٹ کہو تب بھی طرفدار بہت ہیں


غلام مصطفیٰ دائم

No comments:

Post a Comment