پیوستہ اپنی ذات میں آزار بہت ہیں
محسن ہے کوئی ایک تو غدار بہت ہیں
دریا بھی زادِ راہ میں لے جانا چاہیۓ
راہِ وفا و عشق میں انگار بہت ہیں
واعظ! نہ تیری بات میں شوخی نہ حرارت
بے ذوق سے الفاظ کے طومار بہت ہیں
شوریدہ سر کسی کی محبت میں کیا ہوئے
اب تو خود اپنے آپ سے بے زار بہت ہیں
قاصد سے پوچھا؛ کیا تھا جوابِ عرض؟ کہا
"اقرار نہیں کوئی بھی، انکار بہت ہیں"
دائم دروغ گوئی بھی تیری ہے کیا کمال
تم جھوٹ کہو تب بھی طرفدار بہت ہیں
غلام مصطفیٰ دائم
No comments:
Post a Comment