Friday, 13 August 2021

آنکھوں میں جو دیا تھا بجھایا نہ جا سکا

 آنکھوں میں جو دِیا تھا بجھایا نہ جا سکا

تیری گلی سے لوٹ کے آیا نہ جا سکا

دل سے تِرا خیال مٹایا نہ جا سکا

جو فرضِ عین تھا وہ نبھایا نہ جا سکا

ان سے بھی ہو سکی نہ نظر التفات کی

ہم سے بھی دل کا حال سنایا نہ جا سکا

معمور درد سے جو ہُوا مُشت بھر یہ دل

پھر کائنات میں بھی سمایا نہ جا سکا

باقی کمال ہیچ تھے اس کی نگاہ میں

اور ہم سے چاند توڑ کے لایا نہ جا سکا

عاطف کا رنگ دیکھتے میدانِ عشق میں

تھا ایسا شہ سوار، گِرایا نہ جاسکا


عاطف ملک

عین میم

No comments:

Post a Comment