نیند کا سارا عمل خواب گزرنے تک تھا
اس سے رشتہ تو تعلق سے مکرنے تک تھا
🌀ایک دم ٹوٹ گیا سارا طلسمی منظر
آئینہ خانہ فقط تیرے سنورنے تک تھا
کوئی مصنوعی تنفس سے کہاں تک جیتا
سانس کا سلسلہ انسان کے مرنے تک تھا
کس لیے تم نے سجایا اسے گلدانوں میں
پھول کا حسن تو خوشبو کے بکھرنے تک تھا
زور ایسا تھا کہ لہروں سے بہا دے بستی
یہ رویہ بھی تو دریا کا اترنے تک تھا
آبشاروں میں بھی ملتا نہیں احسان مجھے
میں نے ڈھونڈا تو اسے آخری جھرنے تک تھا
احسان گھمن
No comments:
Post a Comment