Saturday, 12 December 2020

ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہے

ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہے

ہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہے

ذرا سی چائے گری اور داغ داغ ورق

یہ زندگی ہے کہ اخبار کا تراشا ہے

تمہارا بولتا چہرہ پلک سے چھو چھو کر

یہ رات آئینہ کی ہے یہ دن تراشا ہے

ترے وجود سے بارہ دری دمک اٹھی

کہ پھول پلو سرکنے سے ارتعاشا ہے

میں بے زباں نہیں جو بولتا ہوں لکھ لکھ کر

🍪مری زبان تلے زہر کا بتاشا ہے

تمہاری یاد کے چرکوں سے لخت لخت ہے جی

کہ خنجروں سے کسی نے بدن کو قاشا ہے

جہان بھر سے جہاں گرد دیکھنے آئیں

کہ پتلیوں کا مرے ملک میں تماشا ہے


عامر سہیل 

No comments:

Post a Comment