Saturday, 12 December 2020

پاگل پن ہم جیسے پاگل کرتے ہیں

 پاگل پن ہم جیسے پاگل کرتے ہیں

وصل ملے تو ہجر مکمل کرتے ہیں

سونپ کے اک دوجے کو اپنی بے چینی

تنہائی کے عقدے کو حل کرتے ہیں

عشق تمہارا آیت بن کر اترا ہے💕

ہم بھی اس کا وردِ مسلسل کرتے ہیں

گھور رہا ہے کتنی دیر سے آنکھوں کو

آنکھوں کو منظر سے اوجھل کرتے ہیں

طارق تجھ سے کتنے شکوے بنتے ہیں

شکوے بھی جو دل کو بوجھل کرتے ہیں


طارق جاوید

No comments:

Post a Comment