دیارِ ضبط کا رستہ بنا کے مارا گیا
میں اپنی آنکھ کو فاقہ سکھا کے مارا گیا
بدن تو روز بناتا تھا اس بلوچن کا👩
مگر میں آج تو چہرہ بنا کے مارا گیا
وہ پگڑیوں کی زیارت کو آئے تھے لیکن
کوٸی وہاں پہ دوپٹہ دکھا کے مارا گیا
تمام لوگ یزیدی تھے اور وہ سید
کسی کو ذات کا شجرہ بتا کے مارا گیا
وہ میکشوں کا علاقہ تھا اور میں پاگل
کسی جبین پہ سجدہ بنا کے مارا گیا
میں اپنی جان گنوا بیٹھا پہلی ہجرت میں
میں اپنے جسم میں آیا اور آ کے مارا گیا
مصورعباس
No comments:
Post a Comment