Saturday, 12 December 2020

اور کرنے دے ہمیں زخم شماری مت پوچھ

 خیریت غیر کی مانند ہماری مت پوچھ

یہ تکلف تو ہوا جاتا ہے بھاری، مت پوچھ

سلسلے درد کے کیسے ہوئے جاری مت پوچھ

اور کرنے دے ہمیں زخم شماری، مت پوچھ

تیرے ہونے میں نہ ہونےکا گماں ہے، سو ابھی

دل کو کرنے دے ذرا رائے شماری، مت پوچھ

ضبط سے کام لیا خوش بھی رہے ہنس بھی دئیے

اف مگر مرحلۂ ہجر گزاری، مت پوچھ

کتنی بے ربط نظر آتی ہیں آنکھیں نصرت

موت جب ہوتی ہے اعصاب پہ طاری، مت پوچھ


نصرت مہدی

No comments:

Post a Comment