خیریت غیر کی مانند ہماری مت پوچھ
یہ تکلف تو ہوا جاتا ہے بھاری، مت پوچھ
سلسلے درد کے کیسے ہوئے جاری مت پوچھ
اور کرنے دے ہمیں زخم شماری، مت پوچھ
تیرے ہونے میں نہ ہونےکا گماں ہے، سو ابھی
دل کو کرنے دے ذرا رائے شماری، مت پوچھ
ضبط سے کام لیا خوش بھی رہے ہنس بھی دئیے
اف مگر مرحلۂ ہجر گزاری، مت پوچھ
کتنی بے ربط نظر آتی ہیں آنکھیں نصرت
موت جب ہوتی ہے اعصاب پہ طاری، مت پوچھ
نصرت مہدی
No comments:
Post a Comment