Saturday, 12 December 2020

اک تعلق نہیں سنبھلا تو بھنور تک پہنچا

 اک تعلق نہیں سنبھلا تو بھنور تک پہنچا

دیکھتے دیکھتے پانی مرے سر تک پہنچا

تجھ سے بچھڑے تو نہ راس آئی کوئی بھی منزل

پھر جنوں میرا تری راہ گزر تک پہنچا

اس قدر دھوپ میں شدت تھی کہ گھبرا کر دل

سائے کی آس میں بے سایہ شجر تک پہنچا

کھو گیا دن کے اجالوں سے ملا کر مجھ کو

ایک ستارہ جو مرے ساتھ سحر تک پہنچا


نصرت مہدی

No comments:

Post a Comment