Saturday, 19 February 2022

بادہ خانے کدھر چلے گئے ہیں

 بادہ خانے کدھر چلے گئے ہیں

وہ زمانے کدھر چلے گئے ہیں

وہ دریچوں سے جھانکنے والے

لوگ جانے کدھر چلے گئے ہیں

شورِ طفلاں نہیں ہے گلیوں میں

سب دوانے کدھر چلے گئے ہیں

گھر کی کچی چھتوں سے چڑیوں کے

آشیانے کدھر چلے گئے ہیں

کیسے کیسے تھے خواب آنکھوں میں

اب نہ جانے کدھر چلے گئے ہیں

اس زمیں کی روایتوں کے امیں

وہ گھرانے کدھر چلے گئے ہیِں

"جن کی باتوں سے پھول جھڑتے ہیں"

گل کھلانے کدھر چلے گئے ہیں

جانے وہ میرا دل جلانے کو

آگ لانے کدھر چلے گئے ہیں

طاہر اتنا گراں ہے بارِ حیات

جھک کے شانے کدھر چلے گئے ہیں


طاہر گل

No comments:

Post a Comment