بادہ خانے کدھر چلے گئے ہیں
وہ زمانے کدھر چلے گئے ہیں
وہ دریچوں سے جھانکنے والے
لوگ جانے کدھر چلے گئے ہیں
شورِ طفلاں نہیں ہے گلیوں میں
سب دوانے کدھر چلے گئے ہیں
گھر کی کچی چھتوں سے چڑیوں کے
آشیانے کدھر چلے گئے ہیں
کیسے کیسے تھے خواب آنکھوں میں
اب نہ جانے کدھر چلے گئے ہیں
اس زمیں کی روایتوں کے امیں
وہ گھرانے کدھر چلے گئے ہیِں
"جن کی باتوں سے پھول جھڑتے ہیں"
گل کھلانے کدھر چلے گئے ہیں
جانے وہ میرا دل جلانے کو
آگ لانے کدھر چلے گئے ہیں
طاہر اتنا گراں ہے بارِ حیات
جھک کے شانے کدھر چلے گئے ہیں
طاہر گل
No comments:
Post a Comment