Saturday, 19 February 2022

ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں

 ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں

میری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوں

آئے گا اک دن مِرے اڑنے کا موسم آئے گا

بس اسی امید پر میں اپنے بال و پر میں ہوں

جسم کی رعنائیوں میں ڈھونڈتے ہو تم مجھے

اور میں کب سے تمہاری روح کے پیکر میں ہوں

دیکھتے ہیں سب نظر آتی ہوئیں اونچائیاں

کون دیکھے گا مجھے بنیاد کے پتھر میں ہوں

آپ کیا روکیں گے اظہار صداقت سے مجھے

آپ کو دنیا کا ڈر ہے میں خدا کے ڈر میں ہوں

اے زمانے کل مِری ٹھوکر سے بچنا ہے تجھے

اتفاقاً آج ویسے میں تِری ٹھوکر میں ہوں

موت بن جاؤں گا تیری اے ستمگر دیکھنا

مجھ پہ جو خنجر اٹھے گا میں اسی خنجر میں ہوں

نفرتوں کی اک دہکتی آگ ہے چاروں طرف

میں فساد شہر کے جلتے ہوئے منظر میں ہوں

سوچتا ہوں یہ بھی کیسی بد نصیبی ہے ظفر

میں بہادر ہو کے بھی ہارے ہوئے لشکر میں ہوں


ظفر کلیم

No comments:

Post a Comment