Saturday, 19 February 2022

احباب ہو گئے ہیں بہت مجھ سے بد گمان

 احباب ہو گئے ہیں بہت مجھ سے بد گمان

قینچی کی طرح چلنے لگی ہے مری زبان

اک بات میری ان کی توجہ نہ پا سکی

کہتے تھے لوگ ہوتے ہیں دیوار کے بھی کان

کھڑکی کو کھول کر تو کسی روز جھانک لو

خالی ہے آج کل مِرے احساس کا مکان

تنہا اداس کمرے میں بیٹھا ہوا تھا میں

اک لفظ نے بکھیر دئیے مشک و زعفران

پانی کا رخ بدلنے کو مارے ہاتھ پاؤں

اک آدمی جو خود کو بتاتا رہا چٹان

خود کو سنبھال پائے گا میں کس طرح کہوں

سوکھا درخت تیز ہواؤں کے درمیان

اک دن میں اپنے گھر کے کھلی چھت پہ چڑھ گیا

مجھ کو زمین پر نظر آیا اک آسمان


تنویر سامانی

No comments:

Post a Comment