Saturday, 19 February 2022

فقیر خاک نشیں تھے كسی کو کیا دیتے

 فقیرِ خاک نشیں تھے كسی کو کیا دیتے

مگر یہی کہ وہ ملتا تو ہم دعا دیتے

گلی گلی میں پکارا نگر نگر گھومے

کہاں کہاں نہ پھرے تجھ کو ہم صدا دیتے

لگی یہ دل کی بھلا آنسوؤں سے کیا بجھتی

سرشکِ دیدۂ غم اور بھی ہوا دیتے

سنا ہے اہلِ حکم پر گراں تھی میری نوا

یہ بات تھی تو مجھے بزم سے اٹھا دیتے

یہ کام کم تھا یہ کارِ پیمبرانہ تھا

کہ اک چراغ سرِ رہگزر جلا دیتے

جوابِ پُرسشِ غم کے ہزار پہلو ہیں

ہم اپنے ہوش میں ہوتے تو مسکرا دیتے

غبارِ راہ نہیں تھے کہ بیٹھ جاتے ہم

گزر گئے ہمیں آوازِ نقشِ پا دیتے

گھروں میں آگ لگا کر بھی کیا ملا خالد

دلوں میں آگ لگی تھی اسے بجھا دیتے


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment