انہیں تیغ پر سے اچھال دو
یہ جو مجلسوں میں ہیں تذکرے
کبھی خلوتوں میں سوال ہیں
یہی سازشوں کے ہیں سلسلے
یہی کافروں کے کمال ہیں
یہ جو گفتگو میں عناد ہے
یہ تو ماروی کا فساد ہے
یہ ہیں سرپھری چند عورتیں
یہ ہیں سرسری چند عورتیں
یہی معاشرت کا زوال ہیں
یہی عصمتوں کا ملال ہیں
نہ شرافتوں سے ہے واسطہ
نہ غلاظتوں سے ہے فاصلہ
نہیں جانتیں کیا ہیں عصمتیں
یہ تو بیچتی ہیں یوں حُرمتیں
نہ یہ بیٹیاں، نہ یہ بیویاں
کسی اجنبی کی ہیں خلوتیں
یہ منافرت کی ہیں بارشیں
یہ بغاوتوں کی ہیں سازشیں
کبھی ٹوکنے پہ ہیں مُشتعل
کبھی روکنے پہ ہیں مُشتعل
کسی معتبر کے جواب پر
کیوں یہ چیختی ہیں حساب پر
یہ تو منکرِ اسلام ہیں
کیوں یہ سیخ پا ہیں حجاب پر
اے امیرِ شہر تجھے واسطہ
اے غنیمِ وقت دے فیصلہ
یہ جو سرکشی کی ہیں مُرتکب
انہیں مملکت سے نکال دو
یہ پاکیزگی کی حریف ہیں
انہیں کال کوٹھری میں ڈال دو
یہ تو دشمنِ اسلام ہیں
انہیں تیغ پر سے اچھال دو
گل نسرین
No comments:
Post a Comment