Saturday, 19 February 2022

انہیں تیغ پر سے اچھال دو

 انہیں تیغ پر سے اچھال دو


یہ جو مجلسوں میں ہیں تذکرے

کبھی خلوتوں میں سوال ہیں

یہی سازشوں کے ہیں سلسلے

یہی کافروں کے کمال ہیں

یہ جو گفتگو میں عناد ہے

یہ تو ماروی کا فساد ہے

یہ ہیں سرپھری چند عورتیں

یہ ہیں سرسری چند عورتیں

یہی معاشرت کا زوال ہیں

یہی عصمتوں کا ملال ہیں

نہ شرافتوں سے ہے واسطہ

نہ غلاظتوں سے ہے فاصلہ

نہیں جانتیں کیا ہیں عصمتیں

یہ تو بیچتی ہیں یوں حُرمتیں

نہ یہ بیٹیاں، نہ یہ بیویاں

کسی اجنبی کی ہیں خلوتیں

یہ منافرت کی ہیں بارشیں

یہ بغاوتوں کی ہیں سازشیں

کبھی ٹوکنے پہ ہیں مُشتعل

کبھی روکنے پہ ہیں مُشتعل

کسی معتبر کے جواب پر

کیوں یہ چیختی ہیں حساب پر

یہ تو منکرِ اسلام ہیں

کیوں یہ سیخ پا ہیں حجاب پر

اے امیرِ شہر تجھے واسطہ

اے غنیمِ وقت دے فیصلہ

یہ جو سرکشی کی ہیں مُرتکب

انہیں مملکت سے نکال دو

یہ پاکیزگی کی حریف ہیں

انہیں کال کوٹھری میں ڈال دو

یہ تو دشمنِ اسلام ہیں

انہیں تیغ پر سے اچھال دو


گل نسرین

No comments:

Post a Comment