Sunday, 20 February 2022

تیری ہمسائیگی سے ڈرتی ہوں

 تیری ہمسائیگی سے ڈرتی ہوں

قلب کی بے کلی سے ڈرتی ہوں

اور کیا کیا نہ تجربے ہوں گے

آنے والی صدی سے ڈرتی ہوں

اتنی مانوس ہوں اندھیروں سے

چاند کی روشنی سے ڈرتی ہوں

اس قدر غم ملے ہیں لوگوں سے

اب ذرا سی خوشی سے ڈرتی ہوں

ہے مِرے پاس تیشۂ فرہاد

میں مگر خودکشی سے ڈرتی ہوں

موت کا تو نہیں ہے کوئی خوف

میں فقط زندگی سے ڈرتی ہوں


رجب چوہدری

No comments:

Post a Comment