تیری ہمسائیگی سے ڈرتی ہوں
قلب کی بے کلی سے ڈرتی ہوں
اور کیا کیا نہ تجربے ہوں گے
آنے والی صدی سے ڈرتی ہوں
اتنی مانوس ہوں اندھیروں سے
چاند کی روشنی سے ڈرتی ہوں
اس قدر غم ملے ہیں لوگوں سے
اب ذرا سی خوشی سے ڈرتی ہوں
ہے مِرے پاس تیشۂ فرہاد
میں مگر خودکشی سے ڈرتی ہوں
موت کا تو نہیں ہے کوئی خوف
میں فقط زندگی سے ڈرتی ہوں
رجب چوہدری
No comments:
Post a Comment