کیوں یہ بے کل اُداس رہتا ہے
دل کہ ہر پل اداس رہتا ہے
سر سے تیرے سرک تو جاتا ہے
پھر وہ آنچل اداس رہتا ہے
تیری آنکھوں میں رہتے رہتے بھی
تیرا کاجل اداس رہتا ہے
جو امیں ہے مِری محبت کا
اب وہ پیپل اداس رہتا ہے
یاد کے پیڑ کٹتے جاتے ہیں
دل کا جنگل اداس رہتا ہے
طاہر گل
No comments:
Post a Comment