Sunday, 6 June 2021

ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے

 ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے

جو میرے سچ تھے بے اثر ٹھہرے

ہم بھی سو جاں نثار کر دیں گے

ان کی ہم پر جو اک نظر ٹھہرے

تنکا تنکا بکھر گیا آخر

کیسے طوفاں میں کوئی گھر ٹھہرے

دن کی خوشیاں نہ غم کی رات بنیں

وقت کا بھی کبھی سفر ٹھہرے

مسئلے ایک پل میں حل ہو جائیں

تُو اگر میرا چارہ‌ گر ٹھہرے

اس سے کہہ تو دیا چلا جائے

دل یہ کہتا رہا مگر ٹھہرے

کوئی تدبیر ہو وہ لوٹ آئیں

پاؤں تھک جائیں رہگزر ٹھہرے

جن کی نسبت سیاہ شب سے نہ ہو

میرے آنگن میں وہ سحر ٹھہرے

ایک آہٹ کی آس میں کب سے

ہیں حنا دل کے بام و در ٹھہرے


حنا رضوی حیدر 

No comments:

Post a Comment