ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے
جو میرے سچ تھے بے اثر ٹھہرے
ہم بھی سو جاں نثار کر دیں گے
ان کی ہم پر جو اک نظر ٹھہرے
تنکا تنکا بکھر گیا آخر
کیسے طوفاں میں کوئی گھر ٹھہرے
دن کی خوشیاں نہ غم کی رات بنیں
وقت کا بھی کبھی سفر ٹھہرے
مسئلے ایک پل میں حل ہو جائیں
تُو اگر میرا چارہ گر ٹھہرے
اس سے کہہ تو دیا چلا جائے
دل یہ کہتا رہا مگر ٹھہرے
کوئی تدبیر ہو وہ لوٹ آئیں
پاؤں تھک جائیں رہگزر ٹھہرے
جن کی نسبت سیاہ شب سے نہ ہو
میرے آنگن میں وہ سحر ٹھہرے
ایک آہٹ کی آس میں کب سے
ہیں حنا دل کے بام و در ٹھہرے
حنا رضوی حیدر
No comments:
Post a Comment