کیسا یہ فلسفہ ہے سمجھا ذرا خدا را
پہلے خطا اُتاری اور پھر ہمیں اُتارا
ویرانیوں میں اکثر میں نے صدا لگائی
میرا کوئی نہیں تھا میں نے کِسے پُکارا
ہر شخص اپنے مطلب کی چال چل رہا ہے
ہر دل کی ہے یہ خواہش ہو جائے وہ ہمارا
دُشوار راستوں پہ منزل تلک چلیں گے
گر ہو تِری طرف سے مُمکن کا اک اشارہ
پہلے انا سمیٹو اور پھر کرو مخاطب
شہزادیوں کو اونچا لہجہ نہیں گوارہ
ردا زینب شاہ
No comments:
Post a Comment