Sunday, 6 June 2021

کسی پہ کرنا نہیں اعتبار میری طرح

 کسی پہ کرنا نہیں اعتبار میری طرح

لُٹا کے بیٹھو گے صبر و قرار میری طرح

ابھی تو ہوتی ہیں سرگوشیاں پسِ دیوار

ابھی نہ کرنا ستارے شمار میری طرح

بگُولہ بن کے اُڑا خواہشوں کے صحرا میں

ٹھہر گیا تو فقط تھا غُبار میری طرح

انہیں کے سایوں میں اب سر جھُکا کے چلتا ہے

اُگا گیا تھا جو سرو و خیار میری طرح


فرید پربتی

No comments:

Post a Comment