Sunday, 6 June 2021

سایۂ زلف نہیں شعلۂ رخسار نہیں

 سایۂ زلف نہیں شعلۂ رُخسار نہیں

کیا تِرے شہر میں سرمایۂ دیدار نہیں

وقت پڑ جائے تو جاں سے بھی گُزر جائیں گے

ہم دِوانے ہیں؛ محبت کے اداکار نہیں

کیا تِرے شہر کے انسان ہیں پتھر کی طرح

کوئی نغمہ، کوئی پائل، کوئی جھنکار نہیں

کس لیے اپنی خطاؤں پہ رہیں شرمندہ

ہم خدا کے ہیں، زمانے کے گُنہگار نہیں

سرخرو ہو کے نکلنا تو بہت مشکل ہے

دستِ قاتل میں یہاں ساز ہے، تلوار نہیں

مول کیا زخمِ دل و جاں کا ملے گا کامل

شاخِ گُل کا بھی یہاں کوئی خریدار نہیں


کامل بہزادی

No comments:

Post a Comment