آنسو کی طرح مجھ کو گرا کیوں نہیں دیتے
اک اور نیا زخم لگا کیوں نہیں دیتے
بکھرے ہوئے پتوں کو جلا کیوں نہیں دیتے
بے کار امنگوں کو سُلا کیوں نہیں دیتے
بیتابئ دل💝 اور بڑھا کیوں نہیں دیتے
اب پھر سے بچھڑنے کی سزا کیوں نہیں دیتے
رِستے ہوئے زخموں کو دوا کیوں نہیں دیتے
کب تک میں یوں تڑپوں گا شفا کیوں نہیں دیتے
سُوکھے ہوئے پیڑوں سے تو چھاؤں نہ ملے گی
گم گشتہ بہاروں کو صدا کیوں نہیں دیتے
کٹتی ہی نہیں شامِ جدائی کسی صورت
آنکھوں میں کوئی خواب سجا کیوں نہیں دیتے
یارب مجھے اک بوجھ سا لگتا ہے یہ جینا
یہ بوجھ مِرے سر سے ہٹا کیوں نہیں دیتے
وہ جس نے زمانے میں کیا تھا تمھیں رسوا
شاہد مِری جاں اس کو بھلا کیوں نہیں دیتے
شاہد مرزا
No comments:
Post a Comment