Tuesday, 15 February 2022

ظلم ہے قہر ہے قیامت ہے

 ظلم ہے، قہر ہے، قیامت ہے

آج پھر عشق کی امامت ہے

لمحہ ہے ہجر کا بہت بھاری

لوٹ کر آؤ تو عنایت ہے

زندگی آج ہے بنی مشکل

کھوٹ ہے، زہر ہے، ملاوٹ ہے

درد اب جاگنے لگا ہے یوں

سوچ میں جھانکتی بغاوت ہے

پار پھر تو ندی کے آ جانا

یار تجھ کو اگر محبت ہے

گر چمن کی ہے منع آرائش

ماند ہر پھول کی لطافت ہے

پھول ہر گام گو ملیں امبر

شہر کا حسن کب سلامت ہے


شہباز امبر رانجھا 

No comments:

Post a Comment