Tuesday, 15 February 2022

قیام کر کے بھی آنکھوں میں اک ہنسی کی نمی

 قیام کر کے بھی آنکھوں میں اک ہنسی کی نمی

نہ دور کر سکی جیون سے ایک تیری کمی

اک اس کی بزم سے اٹھنا محال تھا ہم کو

پھر اس پہ زور کی بارش نہ ساری رات تھمی

میں اس کے چہرے سے کس طرح اس کا دکھ سمجھوں

مزاج اس کا ہے یکساں خوشی ہو یا کہ غمی

میں لے کے بیٹھی ہوں یادوں کے چوک پر کب سے

انا کی برف میں مدفون اپنی لاش جمی

دل شکستہ کی جا نب جو کنکری آئی

کھلا تھا ساریہ اس وقت میں شعورِ رمی


ہما ساریہ

No comments:

Post a Comment