قیام کر کے بھی آنکھوں میں اک ہنسی کی نمی
نہ دور کر سکی جیون سے ایک تیری کمی
اک اس کی بزم سے اٹھنا محال تھا ہم کو
پھر اس پہ زور کی بارش نہ ساری رات تھمی
میں اس کے چہرے سے کس طرح اس کا دکھ سمجھوں
مزاج اس کا ہے یکساں خوشی ہو یا کہ غمی
میں لے کے بیٹھی ہوں یادوں کے چوک پر کب سے
انا کی برف میں مدفون اپنی لاش جمی
دل شکستہ کی جا نب جو کنکری آئی
کھلا تھا ساریہ اس وقت میں شعورِ رمی
ہما ساریہ
No comments:
Post a Comment