Thursday, 17 March 2022

ہجرتوں کی گود میں پلتے رہے

 ہجرتوں کی گود میں پلتے رہے

تھے وفاؤں کے دیے جلتے رہے

داغ ہجرت سے ملی تسکین جاں

حسرتوں میں لوگ کچھ جلتے رہے

جن کو دعویٰ تھا رہیں گے ساتھ ساتھ

وقت رخصت ہاتھ ہی ملتے رہے

موجزن گم گشتہ منزل کی لگن

کارواں در کارواں چلتے رہے

اک ضیا پاشی محیط بزم تھی

داغہائے دل جہاں جلتے رہے

اقتدار و ثروت و سطوت سبھی

عمر رفتہ کی طرح ڈھلتے رہے

دیکھنا صادق!! مآل دوستاں

نار بغض و کیں میں جو جلتے رہے


صادق باجوہ

No comments:

Post a Comment