کِسے خبر ہے
کِسے خبر ہے
کہ جب کسی رات
چاند بدلی کی نرم زلفوں میں
منہ چھپائے
یا سرسراتی ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے
خلا کے آنگن میں کھیلتا ہے
تو دور بیٹھا کوئی اکیلا
اُداس راتوں کی کرب آلود مدتوں کو
نحیف آنکھوں پہ جھیلتا ہے
کِسے خبر ہے
کہ ایسے عالم میں
دل بمشکل نڈھال سانسیں دھکیلتا ہے
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment