عارفانہ کلام منقبت سلام
صبر و رضا کا درس ملا کربلا سے ہے
نسبت کا سلسلہ جو مِرا کربلا سے ہے
پانی پہ جنگ ہو گی مِری پهر یزید سے
پانی کا مسئلہ جو اٹھا کربلا سے ہے
ویسے تو جاں نثار ہیں کتنے ہی دین پر
رتبے میں ہر شہید بڑا کربلا سے ہے
زینبؑ کے عزم و فکر نے مجھ کو بچا لیا
کہتے ہیں لوگ میری بقا کربلا سے ہے
میری دعا کا ایک وسیلہ امام ہیں
میرا بھی خاص حرف دعا کربلا سے ہے
نسبت مِری قریش سے یونہی نہیں رہی
میرا بھی یہ مقام ہوا کربلا سے ہے
میں بھی غم حسینؑ میں روتی ہوں دیر تک
میری نوا میں درد جیا! کربلا سے ہے
جیا قریشی
No comments:
Post a Comment