Sunday, 18 September 2022

روز اول سے ولایت کا جو اقرار کیا

 عارفانہ کلام منقبت سلام


روزِ اول سے ولایت کا جو اقرار کیا 

اس عقیدے کا سرِ دار بھی اظہار کیا 

حکمِ ربّی ہے ولایت کی گواہی، لیکن

مفتیوں نے مِرے جینے کو ہے دشوار کیا

کیوں نہ مقروض حسینؑ ابنِ علیؑ ہوں اس کے

جس کی آغوش نے غازیؑ کو وفادار کیا

اُس گھڑی اپنے مقدر پہ مجھے رشک ہوا

میرے بچے نے جو زنجیر پہ اصرار کیا

شکریہ ماں کی شرافت کا ادا کرتے رہو

جذبۂ ماتمِ شبیرؑ سے سرشار  کیا

جا پڑی کوئے جہنم میں ہے بنیاد اس کی

قصرِ باطل کو یوں سجادؑ نے مسمار کیا

شکر اس نعمتِ عظمیٰ کا ادا کیسے کروں

مجھ کو اللہ نے مولاؑ کا عزادار کیا

تیرے انکارِ ولایت کی مثال ایسی ہے 

جیسے ابلیس نے اللہ کا انکار کیا 

جب سرِ حشر مِرا دفترِ اعمال کُھلا

ماتمِ شہؑ نے مجھے خلد کا حقدار کیا 

کُشتۂ راہِ وفا پر ہوں درود اور سلام 

جس کو شبیرؑ کی خاموشی نے لاچار کیا 

شام، ملعون کا دربار، علیؑ کی بیٹی 

ان ہی الفاظ نے سجادؑ کو بیمار کیا 

پردۂ غیب سے عرفان دعا اس کو ملی

راستہ جس نے بھی کردار کا ہموار کیا 


عرفان حیدر

No comments:

Post a Comment