دردِ دل ہم کو ستاتا ہے بہت راتوں میں
چین پڑتا ہے کہاں پیار کی برساتوں میں
ہم بھلا تیرے خد و خال کہاں دیکھتے ہیں
ہم تو کھو جاتے ہیں اے شخص تِری باتوں می
سانحہ کوئی ہمیں تاک نہیں سکتا ہے
ہم ہیں محفوظ محبت کے حسیں ہاتھوں می
اور تو کچھ نہیں درکار ہمیں، کچھ بھی نہیں
بے وفا! ہم کو وفا چاہیے سوغاتوں میں
جانے کیا دل میں سمایا تھا کہ خالص سونا
کھوجتے رہتے ہیں ہم خام سی کچھ دھاتوں میں
تِیر غیروں کے بھلا مجھ کو لگے ہی کب تھے
اپنے کچھ خاص ہی بیٹھے تھے مِری گھاتوں میں
سطر در سطر، جیا! درج محبت ہو گی
اور کیا ہو گا بھلا اپنے بہی کھاتوں میں
جیا قریشی
No comments:
Post a Comment