اپنی ہی صنف سے، کب دوسری سے خطرہ رہا
میں آدمی تھا مجھے آدمی سے خطرہ رہا
وہ ہر محاذ سے پلٹا تو سرخرو ہو کر
وہ کیا کرے کہ جسے دوستی سے خطرہ رہا
ستم ہوا کہ وہ خود ساختہ ہوئے رہبر
وہ جن کی ہم کو سدا رہزنی سے خطرہ رہا
سدا کتاب پر پابندیاں لگاتے رہے
وہ تیرہ بخت جنہیں آگہی سے خطرہ رہا
ہر اک غریب نے، مزدور نے سنوارا اسے
میرے چمن کو مگر افسری سے خطرہ رہا
یہاں سے واپسی کے راستے نہیں صاحب
جبھی تو ہم کو تِری ہمرہی سے خطرہ رہا
بہت دنوں سے چلی چال نہ کوئی اس نے
بہت دنوں سے ہمیں خامشی سے خطرہ رہا
جنے ہوں جو بھی جہالت کی کوکھ نے شائق
انہیں رہا تو بس اک روشنی سے خطرہ رہا
امتیاز احمد شائق
No comments:
Post a Comment