Sunday, 11 September 2022

امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے

 امیروں کے بُرے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے

مِری حق بات کو وہ قابلِ تشکیک سمجھے ہے

بہت مُشکل ہے جو اس کی غریبی دُور ہو جائے

عجب خوددار ہے امداد کو بھی بھیک سمجھے ہے

مِرے بارے میں اس کے کان بھرتا ہے کوئی شاید

بیاں توصیف کرتا ہوں، تو وہ تضحیک سمجھے ہے

تِرے خط تیری تصویریں شکستہ دل کے کچھ ٹکڑے

تِرا دیوانہ ان سب کو تِری ٭تملیک سمجھے ہے

میں اس کے ہر گماں کا پاس اکثر رکھا کرتا ہوں

مِرا دل اپنے دل کے وہ بہت نزدیک سمجھے ہے

چلے ہے اس طرح جیسے چلے تلوار پر کوئی

وہ میری رہگزر کو جانے کیوں باریک سمجھے ہے

سیاست کے اندھیروں نے اجالے سب نِگل ڈالے

غریب انسان دن کو بھی شب تاریک سمجھے ہے


ضمیر اترولوی

٭تملیک: حقِ ملکیت دینا، مالک ہونا، مالک بنانا

No comments:

Post a Comment