خود ہے جس خواب میں وہ خواب دکھاتا ہے ہمیں
ہم ہیں خود دار بہت،۔ یاد دلاتا ہے ہمیں
ہم ہی تبدیلی کی خواہش کو جگا بیٹھے ہیں
ورنہ، حاکم تو فقط خواب دکھاتا ہے ہمیں
بھوک مِٹتی ہے، نہ انصاف کہیں ملتا ہے
یہ مدینہ کی ریاست ہے، بتاتا ہے ہمیں
ہم ہیں انسان یا کٹھ پُتلی؟ سمجھ آتی نہیں
جو بھی آتا ہے وہ مرضی سے نچاتا ہے ہمیں
جب ضرورت ہو اندھیروں میں ضیأ کرنے کی
ہر کوئی حسبِ ضرورت ہی جلاتا ہے ہمیں
ایک مہنگائی کا طوفان لیے آیا ہے
صبر فرمائیں سبق روز پڑھاتا ہے ہمیں
سب رعایا ہے کرنسی کوئی ڈالر جیسی
جو بھی لیڈر ہو عمر خوب کماتا ہے ہمیں
عابد عمر
No comments:
Post a Comment