Friday, 13 November 2015

جس نے اک خس کے لیے صحرا کو چھانا ہوئے گا

جس نے اک خس کے لیے صحرا کو چھانا ہوئے گا
کون ہو گا، کوئی ہم سا ہی دوانہ ہوئے گا
تم کو دل کی راہ سے خلوت میں آنا ہوئے گا
چشمِ وا میں تو سجن سارا زمانہ ہوئے گا
خود رہو دنیا میں یا پہلو میں بساؤ
سن رکھو، پھر ایک دن پیچھا چھڑانا ہوئے گا
تُو نہ ان داتا سہی پر من کا داتا کون ہے
دل نے جو کھویا صنم تجھ سے ہی پانا ہوئے گا
ہائے وہ دل رس ادا دم بھر نہ نظروں میں رہی
یاد میں اب جس کی اک جیون بِتانا ہوئے گا
اور بکتے اک طرف، کھلتا نہیں اس تک کا بھید
تم کہو حقیؔ بھلا کچھ تم نے جانا ہوئے گا

شان الحق حقی

No comments:

Post a Comment