جس نے اک خس کے لیے صحرا کو چھانا ہوئے گا
کون ہو گا، کوئی ہم سا ہی دوانہ ہوئے گا
تم کو دل کی راہ سے خلوت میں آنا ہوئے گا
چشمِ وا میں تو سجن سارا زمانہ ہوئے گا
خود رہو دنیا میں یا پہلو میں بساؤ
تُو نہ ان داتا سہی پر من کا داتا کون ہے
دل نے جو کھویا صنم تجھ سے ہی پانا ہوئے گا
ہائے وہ دل رس ادا دم بھر نہ نظروں میں رہی
یاد میں اب جس کی اک جیون بِتانا ہوئے گا
اور بکتے اک طرف، کھلتا نہیں اس تک کا بھید
تم کہو حقیؔ بھلا کچھ تم نے جانا ہوئے گا
شان الحق حقی
No comments:
Post a Comment