Friday, 13 November 2015

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے
ایک سناٹا مگر چھایا ہوا احساس پر ہے
اک سمندر بے حسی کا ایک کشتی آرزو کی
ہائے کتنی مختصر لوگوں کی رودادِ سفر ہے
میں ازل سے چل رہا ہوں، تھک گیا ہوں سوچتا ہوں
کیا تِری دنیا میں ہر منزل نشانِ رہ گزر ہے 
اس فصیلِ غم کو سر کرنے پہ بھی کیا مل سکے گا
ایک دیوار ہوا ہے، ایک تیرا سنگِ در ہے
ڈوبنے والے ستارے کو بھلا کب تک پکارے
زندگی کی رات کو سورج کے ہنس دینے کا ڈر ہے
دیکھ لے مجھ کو ابھی کچھ روشنی باقی ہے مجھ میں
شام تک اک ریت کا طوفان آنے کی خبر ہے

شمیم حنفی

No comments:

Post a Comment